روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کو اب تقریباً ایک ہفتہ ہونے کو ہے تاہم اب تک روسی فوج دارالحکومت کیف اور دوسرے بڑے شہروں کا کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام ہے۔
یوکرین پر حملے کیخلاف اقوام متحدہ کا اجلاس، کن ممالک نے روس کے حق میں ووٹ دیا؟
روسی فوج نے ان سات دنوں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں جس کے مطابق اب تک روس کے 498 فوجی ہلاک اور 1597 زخمی ہوچکے ہیں حالانکہ یوکرینی حکام نے 5840 روسی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔
روس کا دعویٰ ہے کہ اس نے اب تک یوکرین کے 2870 فوجیوں کو ہلاک اور 3700 کو زخمی کیا ہے۔ یوکرین نے اپنے فوجیوں کو ہونے والے نقصان کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
کن شہروں میں لڑائی جاری ہے؟
24 فروری کو روس نے یوکرین پر حملہ کیا تھا اور آج جنگ کے ساتویں روز روسی چھاتا بردار دستے یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں اترے۔
اس کے علاوہ یوکرین کے پورٹ سٹی مروپل میں بھی روسی و یوکرینی فوجیوں کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں اور بھاری جانی نقصان کا اندیشہ ہے۔
روسی وزارت دفاع نے یوکرین کے جنوبی شہر خیرسون کا کنٹرول حاصل کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے تاہم شہر کے میئر کا کہنا ہے کہ یوکرینی فورسز کے پاس شہر کا کنٹرول ہے۔
اس کے علاوہ روس نے کیف میں موجود شہریوں سے کہا ہے کہ وہ شہر سے نکل جائیں اس سے پہلے کہ روس کے طے شدہ فضائی حملے شروع ہوجائیں۔
مذاکرات کا دوسرا دور
روس اور
یوکرین کے درمیان فائربندی مذاکرات کا دوسرا دور جمعرات کو ہوگا۔
یہ مذاکرات پولینڈ اور بیلاروس کی سرحد پر ہوں گے، یوکرینی وفد مذاکرات کیلئے کیف سے روانہ ہو گیا ہے۔
یوکرین کا مطالبہ ہے کہ روس فوری طور پر جنگ بندی کرکے فوج کو واپس بلائے جس کے بدلے وہ نیٹو کے معاملے پر غیر جانبدار رہنے پر غور کرسکتا ہے۔
ادھر روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا کہنا ہے کہ روس یوکرین مخصوص ہتھیاروں سے غیر مسلح کرنے کے اپنے مؤقف پر قائم ہے اور ایسے ہتھیاروں کی ایک فہرست پر اتفاق ہونا چاہیے جنہیں یوکرینی سرزمین پر کبھی بھی نصب نہ کیا جائے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ولادیمیر پیوٹن یوکرینی عوام کے اپنے لیڈر کا انتخاب کرنے کے حق کا احترام کرتے ہیں اور روس ولودومیر زیلینسکی کو ہی یوکرین کا قانونی صدر تسلیم کرتا ہے۔
روس یوکرین کے کتنے علاقوں پر قابض ہوچکا؟